کاروار،یکم اگست (ایس او نیوز) دیہاتوں میں اپنے آپ کو دیسی ڈاکٹر کہلانے اور گاؤں گاؤں گھوم پھر کر لوگوں کا علاج کرنے والے ایک جھولاچھاپ نقلی ڈاکٹر سے انجکشن لگوانا بزرگ مریض کو بہت مہنگا پڑا اور ری ایکشن کی وجہ سے طبیعت اتنی خراب ہوگئی کہ مریض کو ضلع اسپتال میں داخل کرنے کی نوبت آگئی ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق انکولہ ہاڈو نامی دیہات میں ایک بزرگ شخص منگیش ملُّو گوڈاپچھلے کچھ دنوں سے جاڑے اور بخار کی وجہ سے پریشان تھا۔ گاؤں میں دورے پر آئے ہوئے ڈاکٹر سے اس نے اپنا علاج کروایا۔ اس دیسی مگر نقلی ڈاکٹر دیواکرنے خون میں انفیکشن ہونے کی بات کہہ کر بخار کم کرنے کے لئے مریض کو2 انجکشن لگائے اور پانچ روپے فیس وصول کی۔لیکن دوسرے ہی دن مریض کے جسم پردرد اور جلن کے ساتھ پھوڑے پھنسیاں نکل آئیں۔جب درد ناقابل برداشت ہوگیا تو منگیش نے انکولہ تعلقہ اسپتال کا رخ کیا۔وہاں پر معائنے کے بعد ڈاکٹروں سے مریض کو ضلع اسپتال چلے جانے کا مشورہ دیا۔ جہاں پہنچنے کے بعد مریض کوایمرجنسی وارڈ میں علاج کے لئے داخل کرلیا گیا ہے۔
جن شکتی ویدیکے کے صدر مادھو نائک نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہاتی علاقوں میں نقلی ڈاکٹروں کی طرف سے معصوم لوگوں کوغیر معیاری دوائیں دے کرزیادہ پیسے وصول کرنے کی شکایتیں بار بار سامنے آتی ہیں۔انکولہ کے ہاڈو میں پیش آئے تازہ معاملے میں بھی ایسی ہی کوئی بات موجود ہے۔ اس سلسلے میں ضلع ہیلتھ آفیسر کو تحقیقات کرکے قصوروار کے خلاف کڑی کارروائی کرنی چاہیے۔
عوام کا کہنا ہے کہ ضلع کے دیہاتوں میں نقلی ڈاکٹروں کے ذریعے عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے واقعات روز کا معمول بن گیا ہے۔ محکمہ صحت اور پولیس کو مشترکہ طور پر اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔